LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں، اسلام آباد جائیں گے: حافظ نعیم الرحمٰن کے پی کے میں گورنر راج کا فیصلہ غلط، ملک معاشی تباہی کی طرف جا رہا ہے،علامہ ناصر عباس وفاق نے کے پی کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی یقین دہانی کرائی: فیصل کنڈی پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی: ڈی سی لاہور اور شیخوپورہ سے رپورٹ طلب پاکستان بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے گا: فیلڈ مارشل گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام، 7 دہشتگرد ہلاک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز مشہور گیم سٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، سمگلنگ روکنے کیلئے کڑی نگرانی کا حکم سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط طبی معائنے کے بعد نواز شریف وطن واپس، جاتی امراء روانگی چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ

سپریم کورٹ: ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم

Web Desk

22 October 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (Controller General of Accounts) ریکروٹمنٹ رولز 2014 کی بحالی کا اہم حکم جاری کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی فاضل جج جسٹس عائشہ اے ملک نے اس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ سروس ٹریبونل کو حکومت کے پالیسی امور اور ریکروٹمنٹ رولز کو منسوخ یا ختم کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ ٹریبونل خود کو ایگزیکٹو کے مقام پر فائز کر کے قواعد ازسرنو بنانے کی ہدایت نہیں دے سکتا، اور آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کا دائرہ اختیار محض ملازمین کی ملازمتی شرائط و ضوابط تک محدود ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ ملازم نے 2014 کے قواعد کے تحت ہی جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی حاصل کی اور بعد میں انہی قواعد کو عدالت میں چیلنج کر دیا، حالانکہ جونیئر آڈیٹر سے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر ڈائریکٹ پروموشنل جمپ کا کوئی قانونی حق موجود نہیں اور ترقی بالذات خود کوئی بنیادی حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومت کو انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر سروس اسٹرکچر میں ترمیم کا مکمل اختیار حاصل ہے، اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی بعد کی منظوریوں و ترامیم سے 2014 کے قواعد کی قانونی حیثیت مکمل طور پر برقرار رہتی ہے۔