LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ نومبر تک کیلیے توانائی ضروریات کا انتظام کر لیا، وزیرخزانہ اسرائیل; عرب دنیا کے صحافیوں کی جاسوسی کا سب سے خطرناک اسکینڈل سامنے آ گیا سان فرانسسکو؛ مغربی ساحل پر پاک-امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا کامیاب انعقاد

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے

Web Desk

17 October 2026

اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی وزرائے خارجہ کونسل کا 52واں اجلاس آج عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی امن و سلامتی اور امتِ مسلمہ کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ملک میں اہم مصروفیت اور پیش آمدہ امور کے باعث اس اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق جدہ میں او آئی سی کے لیے پاکستان کے مستقل نمائندے فواد شیر اجلاس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی کریں گے۔

اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ترکیہ، مصر اور دیگر اہم مسلم ممالک کے اعلیٰ حکام بغداد پہنچ چکے ہیں۔ یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی اور سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، اور تمام رکن ممالک خطے میں پائیدار امن، تنازعات کے سفارتی حل اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کریں گے۔