ایک ہی ملک میں دو خارجہ پالیسیاں ناممکن، خیبرپختونخوا میں آئین کے تحت اقدامات کیے: عطا تارڑ
Web Desk
13 October 2026
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک ملک میں دہشت گردی اور افغانستان کے حوالے سے دو مختلف خارجہ پالیسیاں نہیں چلتیں۔ وفاقی وزرا نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی عملداری اور امن و امان کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، جس کے باعث آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ناگزیر ہوا۔ عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ این ایف سی (NFC) کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کے پی پولیس، سی ٹی ڈی، اور سیف سٹی جیسے منصوبوں پر کیوں خرچ نہیں کیے گئے؟ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انکشاف کیا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور واقعات کی تعداد 8,600 تک پہنچ گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج میں توسیع ممکن ہے اور پاک فوج آئینی دائرہ کار میں رہ کر داخلی امن و امان کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان رابطہ، وفد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا
13 October 2026
پی ٹی آئی کا شو ختم، قومی پرچم نہ اٹھانے والوں کی نسلیں تباہ کر دیں گے: فیصل واوڈا
13 October 2026
روسی وزیر داخلہ کا پاکستان مونومنٹ، پولیس لائنز کا دورہ، پرچم کو بوسہ دیا
13 October 2026
آبادی میں تیز رفتار اضافہ صحت، تعلیم اور روزگار کیلئے بڑا چیلنج ہے: وزیر خزانہ
13 October 2026
یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی کا خاتمہ اگلا ہدف ہے: محسن نقوی
13 October 2026
کراچی: کالعدم بی ایل اے اور ایس آر اے کے 4 دہشت گرد گرفتار
13 October 2026
کے پی میں گورنر راج و ایمرجنسی کا معاملہ: جے یو آئی نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اہم اجلاس طلب کر لیا
13 October 2026
پاکستان کی شام میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت، مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ
13 October 2026