LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
او آئی سی کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی حکومت کی بھرپور حمایت کا اعلان حوثیوں کا سعودی دارالحکومت کے ایئرپورٹ اور ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک ہی ملک میں دو خارجہ پالیسیاں ناممکن، خیبرپختونخوا میں آئین کے تحت اقدامات کیے: عطا تارڑ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی پاکستان موسمیاتی آفات کے خلاف رہنما کردار ادا کرسکتا ہے: صدر زرداری ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا حد سے آگے نکل گیا: ٹرمپ خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ کے پی میں گورنر راج: قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج طلب مریم نواز کا پنجاب بھر میں صفائی کا جامع مائیکرو پلان تیار کرنے کا حکم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی افغان سرزمین کا استعمال روکنے کی ذمہ داری طالبان پرعائد ہوتی ہے: وزارت اطلاعات رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 4 مسافر جاں بحق شمالی کوریا کا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کا تجربہ اردن کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان جرمنی میں پولینڈ کے سٹارلنک سیٹلائٹ سٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار

ایک ہی ملک میں دو خارجہ پالیسیاں ناممکن، خیبرپختونخوا میں آئین کے تحت اقدامات کیے: عطا تارڑ

Web Desk

13 October 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک ملک میں دہشت گردی اور افغانستان کے حوالے سے دو مختلف خارجہ پالیسیاں نہیں چلتیں۔ وفاقی وزرا نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی عملداری اور امن و امان کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، جس کے باعث آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ناگزیر ہوا۔ عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ این ایف سی (NFC) کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کے پی پولیس، سی ٹی ڈی، اور سیف سٹی جیسے منصوبوں پر کیوں خرچ نہیں کیے گئے؟ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انکشاف کیا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور واقعات کی تعداد 8,600 تک پہنچ گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج میں توسیع ممکن ہے اور پاک فوج آئینی دائرہ کار میں رہ کر داخلی امن و امان کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔