LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا آج پہلی بار وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیں گی فیصل واوڈا کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے: رانا ثنا اللہ ایم کیو ایم کی وزیراعظم سے ملاقات، خیبرپختونخوا سے متعلق حکومتی فیصلوں کی حمایت کا اعلان صنعا میں ممکنہ کارروائی کی تیاری، شہریوں کو مخصوص علاقے خالی کرنے کی ہدایت کوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ ادا، وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی شرکت وزیراعظم کا پاکستانی ہنر مندوں کیلئے یورپ میں قانونی روزگار بڑھانے پر زور جرمن چانسلر کا سعوی ولی عہد سے رابطہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تبادلہ خیال پاک فوج کا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل فتح 2 ایکسٹینڈڈ رینج کا کامیاب تجربہ ایران سفارتکاری کیلئے تیار، امریکی جواب کا جائزہ آخری مرحلے میں ہے، کاظم غریب آبادی ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان رابطہ، وفد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا پی ٹی آئی کا شو ختم، قومی پرچم نہ اٹھانے والوں کی نسلیں تباہ کر دیں گے: فیصل واوڈا روسی وزیر داخلہ کا پاکستان مونومنٹ، پولیس لائنز کا دورہ، پرچم کو بوسہ دیا آبادی میں تیز رفتار اضافہ صحت، تعلیم اور روزگار کیلئے بڑا چیلنج ہے: وزیر خزانہ یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی کا خاتمہ اگلا ہدف ہے: محسن نقوی کے پی میں گورنر راج و ایمرجنسی کا معاملہ: جے یو آئی نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اہم اجلاس طلب کر لیا

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی: عطااللہ تارڑ

Web Desk

12 October 2026

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو مزید کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی اور صوبے میں ایمرجنسی و گورنر راج کا نفاذ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کے پی حکومت کی 13 سالہ ناکامی اور این ایف سی فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔ عطا تارڑ نے سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں 20 ہزار سے زائد شدت پسند اور کالعدم ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زیادہ جنگجو محفوظ ٹھکانوں میں مقیم ہیں، جس پر کابل انتظامیہ سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اور بے شمار قربانیاں دی ہیں، تاہم خطے اور بالخصوص افغانستان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اپنا تعمیری و سفارتی کردار جاری رکھے گا۔