LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب

Web Desk

1 October 2026

سائنسدانوں نے مراکش سے ملنے والے 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے ابتدائی ہومو سیپینز (قدیم انسان) کا چہرہ جدید 3D ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ تشکیل دے دیا ہے، جس سے انسانی ارتقاء اور قدیم انسانوں کی حلیہ و ساخت کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سائنسی جریدے ‘ہیرٹیج’ میں شائع تحقیق کے مطابق چہرے کی یہ تشکیلِ نو 1960ء کی دہائی میں مراکش کے تاریخی مقام جبل اِرہود (Jebel Irhoud) سے برآمد ہونے والے فوسل ‘اِرہود 1’ اور دیگر متعلقہ باقیات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھوپڑی کو ڈیجیٹل طور پر مکمل کرنے کے بعد جدید انسانوں کے سی ٹی سکینز اور افریقی آبادی کے نرم بافتوں (Soft Tissues) کا موازنہ کرتے ہوئے چہرے کی دو شکلیں تیار کی ہیں؛ ایک سیاہ و سفید بلا بال اور دوسری میں جلد کی رنگت اور داڑھی کے ممکنہ عناصر شامل کیے گئے ہیں۔ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے اس انسان کے دماغ کی گنجائش 1,364 ملی لیٹر تھی جو جدید انسان کی ساخت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ 2017ء کی جدید ڈیشنگ تحقیق سے قبل ان فوسلز کو نیئنڈرتھل سمجھا جاتا تھا، تاہم اس پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ ہومو سیپینز کا ارتقاء افریقہ کے مختلف خطوں میں بیک وقت ہوا تھا۔