LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان ایف بی آر کے گودام سے 25 کروڑ روپے کے سگریٹ غائب، مقدمہ درج کفایت شعاری مہم: قومی اسمبلی کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے: جی 7 ممالک کا مشترکہ بیان اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل پر زور پاکستان اور لیبیا کے درمیان تجارت، تعلیم اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق راولپنڈی: علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاجی کیس کا ٹرائل مکمل، فیصلہ 25 ستمبر کو سنایا جائے گا اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی کی درخواستِ ضمانت واپس، جیل حکام کو 24 ستمبر کے لیے نوٹس جاری ایرانی صدر نیویارک روانہ، عالمی برادری تک ایران کا پیغام پہنچانے کا عزم پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: عطا تارڑ بغیر پائلٹ کے مسافر طیارے نے پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی اقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردی قوم کی حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل کرتارپور میں بابا گورو نانک کی 487ویں برسی کی تین روزہ تقریبات کا آخری روز این سی سی آئی اے کی غیرقانونی کال سینٹر پر کارروائی،17 غیر ملکیوں سمیت 100 افراد زیر حراست

کترینہ کیف کی والدہ گاؤں میں مشکل زندگی گزارنے پر کیوں مجبور؟

Web Desk

22 September 2026

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف کی والدہ سوزین ٹرکوٹ (Suzanne Turquotte) گزشتہ کئی سالوں سے بھارت کے ایک دور دراز اور پسماندہ دیہی علاقے میں سادگی سے زندگی بسر کرتے ہوئے غریب اور ضرورت مند بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ سوزین ٹرکوٹ نے سال 2008ء میں لندن کی آسائشوں کو خیرباد کہہ کر بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ایک گاؤں کا رخ کیا تھا، جہاں انہوں نے پسماندہ طبقات کی بہتری کے لیے ‘ریلیف پروجیکٹس انڈیا’ (Relief Projects India) نامی فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی۔

اس فلاحی مشن کے تحت انہوں نے 2015ء میں ‘ماؤنٹین ویو اسکول’ (Mountain View School) قائم کیا، جو ابتدائی طور پر صرف 30 بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا نرسری اسکول تھا۔ وقت کے ساتھ یہ اسکول ایک بڑی تعلیمی درسگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں اس وقت 300 سے زائد غریب بچے مفت اور معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کترینہ کیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ان کی والدہ ایک ایسے علاقے میں رہتی ہیں جہاں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن ہوتے ہیں اور اکثر انٹرنیٹ کی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی، جس کے باعث بعض اوقات ان سے ویڈیو کال پر بات چیت بھی ممکن نہیں ہو پاتی۔ کترینہ کیف کے مطابق ان کی والدہ نے دوسروں کی خدمت کا یہ کٹھن اور بے لوث راستہ اپنی خوشی سے چنا ہے، جبکہ وہ خود بھی اپنی والدہ کے اس تعلیمی اور فلاحی ادارے کی مالی معاونت کرتی ہیں۔ یہ فلاحی ادارہ اس وقت تامل ناڈو کے 25 سے زائد دیہات میں تعلیم، خواتین کی خودمختاری اور صحت کے شعبوں میں متحرک ہے۔