LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا ملائیشین وزیر خارجہ سے رابطہ، تجارت، اقتصادی تعاون بارے گفتگو پی ٹی آئی لانگ مارچ، اہم رابطے کا انکشاف دہشتگردوں سے بات چیت نہیں ہوگی، ریاست کی پالیسی واضح ہے: ترجمان پاک فوج خلع کے حق مہر سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ جاپان میں 20ویں ایشین گیمز کا آغاز، پاکستانی دستے کی پروقار انٹری اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور اسلام آباد معاہدے پر واپس آنے کی کوششیں جاری ہیں: ایرانی وزارتِ داخلہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال پنجاب میں سی ٹی ڈی کے 158 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 23 دہشت گرد گرفتار سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا

دہشتگردوں سے بات چیت نہیں ہوگی، ریاست کی پالیسی واضح ہے: ترجمان پاک فوج

Web Desk

19 September 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا ہے کہ ریاستِ پاکستان کی پالیسی بالکل حتمی اور شفاف ہے اور کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہوگی۔ عرب نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا ایک ہی ٹھوس اور بنیادی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا سلسلہ فوراً روکا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان حکومت دوحہ معاہدے میں کیے گئے عالمی وعدوں پر پاسداری کرے، اور اگر وہ ان پر عملدرآمد میں ناکام رہتے ہیں تو پاکستان کو اپنے دفاع کا کامل اور قانونی حق حاصل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث تقریباً ۸۰ فیصد حملہ آور افغان شہری ہیں اور سرحد پار سے پاکستان آنے والے ہر گروہ میں افغان باشندے موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت سے سفارتی بات چیت تو کر سکتا ہے لیکن کسی بھی مسلح دہشت گرد گروہ سے بات نہیں کی جائے گی۔ بلوچستان کی امن و امان کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ دہشت گردوں کو کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ محض بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کو خراب کرنے اور دہشت گردی کے پسِ پشت بھارت کا ہاتھ ہے جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جانے والا منفی پروپیگنڈا بھی بیرونِ ملک سے کنٹرول ہو رہا ہے۔

سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پاکستان کے غیر مشروط اور تاریخی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶ء کو عرب نیوز کو دیے گئے اس انٹرویو کے تناظر میں پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کے دفاع اور تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور دونوں ملکوں کی سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مضبوط رابطہ موجود ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پاکستان کی مسلسل، انتھک اور پرخلوص سفارت کاری کا ہی نتیجہ ہے اور دونوں ممالک قائم شدہ دفاعی معاہدوں اور عزم پر مکمل طور پر کاربند ہیں۔