LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار نمازیوں کو مقدس مقام پر نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے: حنیف عباسی دہشتگردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم، حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے: اویس لغاری سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن

طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف

Web Desk

18 September 2026

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے عالمی سیاسی صورتحال پر ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت، دھونس اور دباؤ کے ذریعے اپنے من پسند مطالبات منوانے والا یک طرفہ عالمی نظام (Unipolar World Order) اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں عالمی سطح پر کثیر الجہتی نظام (Multilateralism) کا تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کا احترام پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

باقر قالیباف نے حال ہی میں سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق امریکی موقف کو ویٹو کرنے پر چین اور روس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سیاسی استعمال کو دوٹوک انداز میں مسترد کر کے قانون کی حکمرانی اور غیر جانب داری کے اصولوں کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی اسپیکر نے زور دے کر کہا کہ عالمی امور میں یک طرفہ زور زبردستی کا طرزِ عمل کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بین الاقوامی تنازعات اور مسائل کے پائیدار حل کے لیے طاقت اور دباؤ کی پالیسی کو ترک کر کے قانون، باہمی احترام اور کثیر الجہتی تعاون کو بنیادی محور بنایا جائے۔