LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں، قومی مفادات مقدم ہیں: جے ڈی وینس ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری

امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی

Web Desk

16 September 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازعہ کے دوران امریکی افواج کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مناسب وقت پر ان تمام تباہ کاریوں کی مزید تفصیلات دنیا کے سامنے لائے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی حکام کے اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا کہ ایران ایک بے دفاع ملک ہے اور امریکہ کا مقابلے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

عباس عراقچی نے اپنے موقف کی تائید کے لیے امریکی محکمہِ دفاع (پینٹاگون) کے انسپکٹر جنرل کی ۱۴ ستمبر کو جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جواب میں سینکڑوں امریکی فوجی مقامات کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوئے، جبکہ درجنوں طیارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو پہنچنے والے ان انکشافات کو محض ‘آئس برگ کا ایک چھوٹا سا سرا’ قرار دیا اور کہا کہ اصل اور مکمل حقائق ابھی سامنے آنا باقی ہیں جنہیں ایران وقت آنے پر ظاہر کرے گا۔

واضح رہے کہ پینٹاگون کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ۳۰ جون ۲۰۲۶ء تک مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں، سیکڑوں عمارتوں، ڈرونز، اور جنگی طیاروں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران امریکی فوجی اخراجات ۳۳.۴ ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں جن میں سے ۲۲ ارب ڈالر کا اسلحہ اور بارود استعمال کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ عباس عراقچی کے بعض اضافی دعووں کی مستقل اور آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی پر مزید بحث چھیڑ دی ہے۔