LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان روس نے اسرائیل کے ماسکو پر یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی پیوٹن کو انسان دوست قرار دینے پر زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف پر تنقید یمنی فوج کے 780 فضائی اور فوجی حملے، 512 حوثی باغی ہلاک اور زخمی خوبصورت منظر کی تصویر لیتے امریکی خاتون گہری کھائی میں گر کر ہلاک امارات، قطر سمیت عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ کی سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی بارے تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال مصر کا یمن کے تنازع کے سفارتی حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور روس کی کیف پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش، 630 ڈرون داغنے کا دعویٰ امریکی صدر کا ایلون مسک سے رابطہ، یوکرین کیلئے انٹرنیٹ سروس پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

Web Desk

16 September 2026

سعودی عرب نے اپنی اہم ‘ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن’ (East-West Pipeline) پر ڈرون حملوں کے بعد یورپی ممالک کے لیے خام تیل کی متعدد سپلائیز منسوخ کر دی ہیں، جس کے باعث عالمی انرجی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور یورپی خریداروں نے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق تجارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کئی کارگو کی منسوخی سے آگاہ کر دیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر پر واقع ینبع کی اہم بندرگاہ سے بھی تیل کی لوڈنگ کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان ڈرون حملوں کا الزام ایک عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

ان حملوں کے نتیجے میں سعودی حکام نے مشرق سے مغرب تک پھیلی اس اہم پائپ لائن کو بند کر دیا ہے، جو گزشتہ چھ ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی۔ اس بندش کے بعد بالخصوص پولینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک نے سپلائی میں متوقع کمی کو پورا کرنے کے لیے فوری متبادل راستے اور نئے سپلائرز تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق، سعودی عرب اب ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے ‘ڈارک شپمنٹس’ کے غیر روایتی طریقوں سے تیل برآمد کرنے پر غور کر سکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسی خفیہ ترسیلات کے ذریعے خلیجی ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد یعنی تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔