LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری پاکستان پولینڈ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے پاکستان کی خاطر بات چیت کرنی چاہیے: علامہ ناصر عباس ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان بھی بحفاظت بازیاب تبدیلی گالیاں دینے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال جیٹ فیول کی قیمت میں 3 روز کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ افغانستان پر ماسکو فارمیٹ اجلاس، پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت سپین: کرایوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان یمنی فوج کا باب المندب پر کنٹرول، 1122 حملوں کے دوران 1747 جنگجو ہلاک نیوزی لینڈ نے نیٹو کے دفاعی بینک میں شمولیت سے انکار کر دیا بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے: سلمان اکرم راجہ ہمارے کارکن پرامن ہیں، گولی نہیں چلنی چاہیے: بیرسٹر گوہر اسلام آباد ناکام ہو چکا تو تھر والوں کو موقع دیں، مزید صوبے حل نہیں: بلاول بھٹو

متحدہ عرب امارات میں زیرِ حراست 2 پاکستانی شہریوں کی بحال وزارتِ خارجہ کو 15 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

Web Desk

14 September 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں زیرِ حراست دو پاکستانی شہریوں، سید سلمان رضا زیدی اور جنید جہانگیر کو قونصلر رسائی اور قانونی امداد فراہم کرنے کے معاملے پر وفاقی وزارتِ خارجہ کو 15 دن کے اندر حتمی فیصلہ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس صادق محمود خرم نے ابوظہبی اور دبئی میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ کے ذریعے دونوں شہریوں تک قونصلر رسائی، قانونی معاونت اور ان کی محفوظ واپسی سے متعلق دائر کی گئی آئینی درخواست پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے کونسل بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی نے پیش ہو کر دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ متاثرہ پاکستانی شہری سید سلمان رضا زیدی اور جنید جہانگیر سیاسی طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ ہیں، جو 27 ستمبر 2024 کو شارجہ میں اپنی رہائش گاہ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے۔ موصولہ معلومات کے مطابق، دونوں شہریوں کو یو اے ای حکام نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً دو سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کا باضابطہ الزام، ایف آئی آر، یا عدالتی و قانونی ریکارڈ سامنے نہیں لایا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت اور وزارتِ خارجہ بیرونِ ملک اپنے شہریوں کو آئینی حق کے مطابق مؤثر قونصلر تحفظ اور قانونی مدد فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وفاقی وزارتِ خارجہ کو فوری طور پر ہدایت کی جائے کہ وہ اماراتی حکومت سے شہریوں کا عدالتی ریکارڈ حاصل کرے، انہیں قانونی و قونصلر معاونت فراہم کرے، اور ان کی وطن واپسی کے لیے سفارتی سطح پر ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے اب تک کی پیشرفت رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرے۔