LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

Web Desk

7 September 2026

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے عسکری دستوں نے صوبہ البیضا کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے سعودی عرب کے ایک مسلح جاسوس ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا ہے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں بتایا کہ یہ چینی ساختہ ‘ونگ لونگ ٹو’ (Wing Loong II) مسلح ڈرون تھا، جو خطے میں مشکوک سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ ترجمان کے مطابق ڈرون کو ہدف بنانے کے لیے مناسب ایئر ڈیفنس ہتھیار کا استعمال کیا گیا، جبکہ یہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے کسی بھی غیر ملکی ڈرون کو مار گرائے جانے کا مسلسل تیسرا واقعہ ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے حوثی ترجمان کے اس دعوے پر فی الحال کوئی باضابطہ یا سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث واقعہ کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے کہ حوثیوں نے جولائی میں اہم تجارتی آبی گزرگاہ باب المندب میں سعودی بحری آمدورفت کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی علاقوں پر سعودی ناکہ بندی کو قرار دیا گیا تھا۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں تجارتی و بحری سرگرمیاں اس وقت شدید سیکیورٹی خدشات اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کی زد میں ہیں۔