LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی کے مثبت اثرات ہونگے: رافیل گروسی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 3 روز میں 27 افراد جاں بحق، 69 زخمی صدرٹرمپ کی کینیڈین کمپنی بمبار ڈیئر کو طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ

سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات

Web Desk

7 September 2026

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹرز کے لیے بلیو (آفیشل) پاسپورٹس کے اجرا، درپیش نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کی رکاوٹوں، اور سنگین جرائم کے خلاف تادیبی سزاؤں کے معاملے پر قانون سازوں اور وزارتِ داخلہ کے حکام کے درمیان شدید بحث ہوئی۔

اجلاس کے دوران سینیٹر دلاور خان، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارلیمنٹرینز اور سابق سینیٹرز کو پاسپورٹ کے اجرا میں حائل تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی پاسپورٹ کی کارکردگی اور بیوروکریٹک طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے۔ سینیٹر طلال چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ ماضی میں غیر متعلقہ افراد کو 25 ہزار سے زائد آفیشل پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم سے ملک کی بدنامی ہوئی، تاہم موجودہ حکومت نے قوانین کے اندر موجود خامیوں کو دور کر کے اصلاحات کی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر قانون میں 5 سالہ پاسپورٹ کا استحقاق موجود ہے تو ایک سال کا پاسپورٹ جاری کرنا نامناسب ہے، اور اگر پارلیمنٹرینز کو پاسپورٹ نہیں دینے تو متعلقہ قوانین میں واضح ترمیم لائی جائے۔

اجلاس میں بچوں سے زیادتی اور سنگین جرائم کے انسداد پر بھی گفتگو ہوئی۔ سینیٹر نسیمہ احسان اور سینیٹر ثمینہ زہری نے ایسے مجرموں کی سرعام پھانسی، عدم ضمانت اور سخت ترین سزاؤں کی تجویز دی، جس پر سینیٹر طلال چوہدری اور سینیٹر ثمینہ زہری کے درمیان طریقہ کار پر جملے بازی ہوئی۔ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور پاسپورٹ حکام سے پاسپورٹ کے اجرا کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔