LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان جنگِ ستمبر و مئی میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں کرائی جائیں، صوبوں کی تقسیم پر جلد بازی وفاق کے لیے خطرناک ہو گی: بیرسٹر گوہر غزہ میں 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا، سپرد خاک

بھارتی پولیس اہلکار کے پاس برصغیر کی تاریخ کی عکاسی کرتا قدیم سکوں کا ذخیرہ

Web Desk

7 September 2026

حیدرآباد/تروپتی: بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں تعینات ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل تھماپورم سریش ریڈی نے دو دہائیوں کی کاوشوں کے بعد قدیم سکوں اور نایاب ڈاک ٹکٹوں کا ایسا ذخیرہ جمع کر لیا ہے جو برصغیر کی ہزاروں سالہ سیاسی، ثقافتی اور معاشی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔

’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق، 1998ء میں پولیس فورس میں شمولیت اختیار کرنے والے سریش ریڈی کے پاس موریہ، ساتواہنا، مغل سلطنت اور برطانوی دورِ حکومت کے سونے، چاندی اور تانبے کے نایاب سکے موجود ہیں۔ انہوں نے ان سکوں کی تاریخی توثیق کے لیے باقاعدہ کتب خانوں سے تحقیق اور مطالعہ کیا۔ سریش ریڈی کے مطابق اپنے بیٹے کی شدید بیمار پرسی اور گھریلو ذہنی دباؤ کے دوران سکے جمع کرنا اور ان کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ان کے لیے روحانی اور ذہنی سکون کا ذریعہ بنا۔

سریش ریڈی کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک سکوں کی حقیقی اہمیت ان کی مالی قیمت سے زیادہ ان میں پوشیدہ تاریخی پس منظر کی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اس تاریخی ذخیرے کو الماریوں تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی اداروں اور عوامی نمائشوں کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل کمپیوٹر سکرینوں سے ہٹ کر تاریخ کو حقیقی نوادرات کی شکل میں دیکھ اور سمجھ سکے۔