LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں کرائی جائیں، صوبوں کی تقسیم پر جلد بازی وفاق کے لیے خطرناک ہو گی: بیرسٹر گوہر غزہ میں 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا، سپرد خاک شمالی کوریا کا نیا جنگی بحری جہاز کو جوہری جوابی کارروائی کا حصہ بنانے کا اعلان جرمنی میں انتخابات: دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی سب سے آگے، اقتدار کے قریب پہنچ گئی میامی: کارگو طیارہ رن وے سے اتر کر گاڑیوں سے جا ٹکرایا، 5 افراد ہلاک انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث 8 ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا امریکی پابندیاں، بحری ناکہ بندی: ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھ گیا آبنائے ہرمز کا مشن: ایران کا امریکا کا ساتھ دینے پر جنوبی کوریا کے مفادات کو نشانہ بنانے کا خدشہ یمن میں حکومتی فوج اور حوثی باغیوں میں مزید جھڑپیں، ہلاکتیں 140 ہوگئیں 7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن ایران کا آبنائے ہرمز سے پابندیاں عائد کرنے والوں کی آمدورفت روکنے کا منصوبہ منظور ایران کا اربیل کے قریب امریکی نگرانی کرنے والا غبارہ مار گرانے کا دعویٰ

جرمنی میں انتخابات: دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی سب سے آگے، اقتدار کے قریب پہنچ گئی

Web Desk

7 September 2026

جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ کے مقامی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند جماعت ‘آلٹرنیٹو فار جرمنی’ (AfD) نے میدان مارتے ہوئے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انتخابی ایگزٹ پولز کے مطابق اے ایف ڈی نے 44 فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جرمن سیاسی تاریخ میں اس کامیابی کو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کسی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے ریاستی اقتدار کے انتہائی قریب پہنچنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے ملکی و بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

ان نتائج نے جرمن چانسلر فریڈرک مرس کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (CDU) سمیت مرکزی دھارے کی قدامت پسند جماعتوں کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ برلن کی مرکزی حکمران اتحادی حکومت کی عوام میں بڑھتی ہوئی شدید غیر مقبولیت کو بھی واضح کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اے ایف ڈی ریاستی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت یا مؤثر نمائندگی قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے علاقائی سطح پر اپنی سخت گیر پالیسیوں اور امیگریشن مخالف اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے ایک مضبوط قانونی و سیاسی موقف حاصل ہو جائے گا