LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں کرائی جائیں، صوبوں کی تقسیم پر جلد بازی وفاق کے لیے خطرناک ہو گی: بیرسٹر گوہر غزہ میں 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا، سپرد خاک شمالی کوریا کا نیا جنگی بحری جہاز کو جوہری جوابی کارروائی کا حصہ بنانے کا اعلان جرمنی میں انتخابات: دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی سب سے آگے، اقتدار کے قریب پہنچ گئی میامی: کارگو طیارہ رن وے سے اتر کر گاڑیوں سے جا ٹکرایا، 5 افراد ہلاک انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث 8 ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا امریکی پابندیاں، بحری ناکہ بندی: ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھ گیا آبنائے ہرمز کا مشن: ایران کا امریکا کا ساتھ دینے پر جنوبی کوریا کے مفادات کو نشانہ بنانے کا خدشہ یمن میں حکومتی فوج اور حوثی باغیوں میں مزید جھڑپیں، ہلاکتیں 140 ہوگئیں 7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن ایران کا آبنائے ہرمز سے پابندیاں عائد کرنے والوں کی آمدورفت روکنے کا منصوبہ منظور ایران کا اربیل کے قریب امریکی نگرانی کرنے والا غبارہ مار گرانے کا دعویٰ

غزہ میں 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا، سپرد خاک

Web Desk

7 September 2026

غزہ کی پٹی کے علاقے زیتون میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے مکانات کے ملبے تلے دبی 100 فلسطینیوں کی میتیں اور باقیات نکالنے کے بعد ان کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کر کے انہیں الاحلی (المعمدانی) قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ برآمد کی جانے والی ان میتوں میں 70 سے زائد بچے بھی شامل ہیں جنہیں تقریباً ڈھائی سے تین سال بعد ملبے سے نکالا جا سکا۔ اس دلاویز اور انتہائی غمگین تقریبِ جنازہ میں متاثرہ خاندانوں، ہزاروں عام شہریوں، سول ڈیفنس کے اہلکاروں اور مقامی سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ میتوں کو فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر تباہ شدہ عمارتوں کے قریب رکھا گیا تھا جہاں لواحقین نے اپنے پیاروں کو آخری الوداع کہا۔

نمازِ جنازہ سے قبل غزہ سول ڈیفنس اور لاپتہ افراد کی کمیٹی کے نمائندوں نے تعزیتی خطابات میں دنیا کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھاری مشینری اور وسائل کی شدید عدم دستیابی کے باوجود امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے شہدا کو نکالنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشنز کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت اب تک ملبے تلے سے سینکڑوں لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، تاہم غزہ بھر میں اب بھی 8 سے 9 ہزار کے قریب فلسطینیوں کی میتیں مختلف مقامات پر تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کے لیے بین الاقوامی امداد اور مشینری کی اشد ضرورت ہے۔