LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث 8 ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا امریکی پابندیاں، بحری ناکہ بندی: ایران پر مزید معاشی دباؤ بڑھ گیا آبنائے ہرمز کا مشن: ایران کا امریکا کا ساتھ دینے پر جنوبی کوریا کے مفادات کو نشانہ بنانے کا خدشہ یمن میں حکومتی فوج اور حوثی باغیوں میں مزید جھڑپیں، ہلاکتیں 140 ہوگئیں 7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن ایران کا آبنائے ہرمز سے پابندیاں عائد کرنے والوں کی آمدورفت روکنے کا منصوبہ منظور ایران کا اربیل کے قریب امریکی نگرانی کرنے والا غبارہ مار گرانے کا دعویٰ نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے غیر مجاز آبادکار چوکیاں ختم کرنے کا حکم صدر مملکت کا دورہ فرانس منسوخ، 8 ستمبر کو پاکستان واپسی ہوگی آبنائے ہرمز سے روزانہ 90 لاکھ بیرل تیل گزر رہا ہے، امریکی وزیر توانائی ترکیہ نے نئے معاشی منصوبے کے تحت دفاعی اخراجات میں 229 فیصد اضافہ کر دیا عظیم ادیب، باکمال مفکر، روشن فکر رہنما اشفاق احمد کو بچھڑے 22 برس بیت گئے ایران کا آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے باہر نیا محدود زون قائم کرنے کا اعلان کراچی میں مزار قائد کے اطراف جلسے پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان

انڈونیشیا میں آتش فشاں کے باعث 8 ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل

Web Desk

6 September 2026

انڈونیشیا میں آتش فشاں کے اچانک اور شدید دھماکوں کے بعد نکلنے والی راکھ اور لاوے کے باعث ملک کے 8 اہم ترین ہوائی اڈوں پر پروازوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ انڈونیشیائی وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ان بند کیے جانے والے ہوائی اڈوں میں دارالحکومت جکارتہ کا مرکزی سوئیکارنو ہاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں مختلف ایئرپورٹس پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد ملکی و غیر ملکی مسافر محصور ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ گزشتہ دو دنوں کے دوران 712 سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔ پروازوں کے اس تعطیل سے سب سے زیادہ سنگاپور آنے اور جانے والے روٹس متاثر ہوئے ہیں، جبکہ دوحہ، سڈنی اور کوالالمپور سمیت دیگر بین الاقوامی فلائٹس کا شیڈول بھی بری طرح درہم برہم ہوا ہے۔

واضح رہے کہ خطے میں 4 ستمبر سے آتش فشاں سے لاوے اور زہریلی راکھ کا مسلسل اخراج جاری ہے جس نے فضائی حدود کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ حکام کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کا بادل مشرقی جانب واقع جزیرے جاوا میں 20 ہزار فٹ اور دوسری جانب جزیرہ سماٹرا کی طرف 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پھیل چکا ہے۔ ماہرینِ ہوابازی کا کہنا ہے کہ راکھ کے ان بادلوں کی وجہ سے طیاروں کے انجن ناکارہ ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں، جس کے باعث ہوائی اڈوں کی بحالی کا انحصار موسم کی صورتحال اور راکھ کے پھیلاؤ میں کمی پر ہوگا۔