LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

روس، یوکرین اور امریکا کے سہ فریقی مذاکرات کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی: زیلنسکی

Web Desk

6 September 2026

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے سہ فریقی مذاکرات کا دوبارہ انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بالترتیب خصوصی نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سے کیف میں اہم ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو سہ فریقی مذاکراتی عمل کے لیے ماسکو کے جواب کا انتظار ہے، جبکہ امید ہے کہ امریکی ٹیم جلد دوبارہ کیف کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی وفد سے ملاقات انتہائی بامعنی اور تعمیری رہی، جس میں سیکیورٹی اور اقتصادی ضمانتوں کے ساتھ ساتھ یوکرین کو ایئر ڈیفنس میزائلوں کی فراہمی اور آنے والی سردیوں کے لیے امریکی اور یورپی امدادی پیکیج پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

دوسری جانب امریکی نمائندے جیرڈ کشنر نے تصدیق کی کہ واشنگٹن ایک جامع اور پائیدار امن پیکیج کی تشکیل پر تیز رفتاری سے کام کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کو جلد از جلد تینوں ممالک کے سہ فریقی فارمیٹ پر واپس لایا جائے گا۔ امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف نے واضح کیا کہ امریکا اس مسلح تنازع کا صرف اور صرف سفارتی و سیاسی حل چاہتا ہے کیونکہ عسکری اقدامات سے اس مسئلے کا دائمی حل ممکن نہیں ہے۔