LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے سیاسی قائدین کا مشترکہ جدوجہد کا اعلان پاکستان چاروں صوبوں کے ساتھ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا: وزیراعلیٰ سندھ مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام میں نیپرا کا فیصلہ اہم سنگِ میل ہے: اویس لغاری صومالیہ کا بحری قزاقی کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش: وزیرِ خزانہ کی شفافیت اور عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل

ایران کی بحری ناکہ بندی، امریکی فوج نے 92 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا

Web Desk

6 September 2026

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے خطے میں ایران کی بحری نقل و حرکت اور ناکہ بندی سے متعلق اپنی اب تک کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے باضابطہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 6 ستمبر تک امریکی فوج نے آپریشنز کے دوران 92 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کروایا، جبکہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے یا مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر 3 تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ امریکی بحری اور بالواسطہ فورسز نے ناکہ بندی کے طے شدہ ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے 2 تجارتی بحری جہازوں پر سوار ہو کر ان کی تفصیلی تلاشی بھی لی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد خطے کے اہم بحری راستوں میں ایران کے بچھائے گئے ناکہ بندی کے نیٹ ورک، غیر قانونی نقل و حمل اور بحری نقل و حرکت پر قابو پانا اور سمندری سلامتی کو نفاذ کے طریقۂ کار کے تحت برقرار رکھنا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی اس غیر یقینی صورتحال کے باعث بین الاقوامی بحری تجارت میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔