LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے سیاسی قائدین کا مشترکہ جدوجہد کا اعلان پاکستان چاروں صوبوں کے ساتھ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا: وزیراعلیٰ سندھ مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام میں نیپرا کا فیصلہ اہم سنگِ میل ہے: اویس لغاری صومالیہ کا بحری قزاقی کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش: وزیرِ خزانہ کی شفافیت اور عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل

مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام میں نیپرا کا فیصلہ اہم سنگِ میل ہے: اویس لغاری

Web Desk

7 September 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے جدید فیصلے کا پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک میں ‘کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ’ (CTBCM) کے عملی قیام کی سمت ایک اہم تاریخ ساز سنگِ میل قرار دیا ہے۔

سردار اویس لغاری نے وضاحت کی کہ ‘یوز آف سسٹم چارج’ (Wheeling Charges) کا باضابطہ تعیین سی ٹی بی سی ایم نیلامی کی راہ میں حائل آخری ریگولیٹری رکاوٹ تھی، جو اب کامیابی سے طے پا گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی قدم پاکستان کو دہائیوں پرانے روایتی واحد خریدار (Single-Buyer) کے فرسودہ نظام سے نکال کر ایک شفاف اور مسابقتی مارکیٹ میں داخل کرے گا، جہاں اہل صنعتی صارفین پہلی بار اپنی پسند کے بجلی فراہم کنندگان (Bilateral Contracts) سے براہِ راست بجلی خرید سکیں گے۔

وزیرِ توانائی کا کہنا تھا کہ اس مسابقتی نظام کے ثمرات صرف صنعتی طبقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، موجودہ پاور پلانٹس کی صلاحیت کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا اور پاور سیکٹر کی نااہلیوں کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام قابلِ تجدید توانائی اور بیٹری اسٹوریج کی شمولیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مہنگے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار کم کرے گا، جبکہ وزارتِ توانائی اس جدید فریم ورک کو شفاف اور مؤثر انداز میں عملی شکل دینے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔