LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران

Web Desk

28 August 2026

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی باضابطہ اجازت کے بغیر کوئی بھی تجارتی یا عسکری بحری جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتا۔

ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے والے تمام بحری جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی این او سی (NOC) اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بحریہ سے رابطہ قائم کر کے مقررہ سیکورٹی ضوابط کی مکمل پاسداری کرنا ہو گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدامات کا مقصد خطے کی سیکیورٹی کے تحت سمندری آمدورفت کو مزید منظم اور باضابطہ بنانا ہے۔

واضح رہے کہ تہران انتظامیہ گزشتہ کچھ عرصے سے آبنائے ہرمز میں اپنے انتظامی و سیکورٹی کنٹرول کو قانونی شکل دینے کے لیے قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔ رواں برس مئی میں بھی ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ متعدد یورپی ممالک اپنے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا تعطل گزرگاہ کے لیے تہران کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ میں آبی گزرگاہ کے انتظام کا نیا نظام نافذ کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔