LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی برطانیہ نے امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا کردار سراہا: اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سے سعودی وزیر ماحولیات کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال سپریم کورٹ نے کے پی ملازمین کی سینیارٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا

Web Desk

27 August 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی قیادت میں قائمہ کمیٹی کے ارکان نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور متاثرہ نرسری کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ اور حکومتی بیانات میں شدید تضاد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں ایک طرف پرانے اے سی میں شارٹ سرکٹ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب آکسیجن سلنڈر پھٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ خود اصلی وجہ سے ناواقف ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی ابتدائی منتقلی میں بھی اے سی سے آگ بھڑکنے کے کوئی واضح ثبوت نہیں ملے۔

کمیٹی سربراہ نے انتظامی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نرسری کی پرانی عمارت 1990 میں تعمیر کی گئی تھی، جبکہ حال ہی میں قائم کیے گئے جدید بلاک میں نرسری منتقل کرنے کے بجائے گائنی وارڈ بنا دیا گیا۔ کمیٹی اس فیصلے کا سخت نوٹس لے گی کہ حساس ترین نوزائیدہ بچوں کو پرانے اور غیر محفوظ بلاک میں کیوں رکھا گیا۔

کمیٹی ممبر ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے زور دیا کہ متضاد بیانات انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، لہٰذا اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت اور ای ڈی پمز عہدے سے مستعفی ہوں۔ قائمہ کمیٹی نے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے اور تمام ذمہ داروں کے احتساب کے لیے ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔