اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں فضائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایئربیس کو مالی نقصان پہنچا۔ شامی سرکاری ٹی وی کے مطابق ابو ظہور ایئربیس کے رن وے پر آٹھ فضائی حملے کئے گئے، شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور اسے بلا جواز اشتعال انگیزی قرار دیا اور شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی و عالمی استحکام کے لئے براہ راست خطرہ قرار دیا۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کو روکنے کے لئے زیادہ مؤثر موقف اختیار کرے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس ایئربیس پر ماضی میں غیر ملکی جنگجو قیام کرتے تھے، شامی حکومت کا اہم حامی ترکیہ اس ایئربیس کی بحالی کا کام کر رہا تھا۔ ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام کے لئے خصوصی نمائندے ٹام بارک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا امریکا کو ابو ظہور ایئربیس پر اسرائیلی فضائی حملوں پر گہری تشویش ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ترکیہ اس فضائی اڈے پر اپنے فوجی تعینات کررہا تھا اس لئے حملہ کیا گیا ہے، ترکیہ کی شام میں موجودگی اسرائیل کیلئے خطرہ ہے۔ قطر اور مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک نے بھی اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔