LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ

بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا

Web Desk

17 August 2026

بلوچستان ہائی کورٹ نے زیارت میں ڈی آئی جی آفس کے قریب پولیس پر ہونے والے خونریز دہشت گرد حملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ’بلوچستان ٹربیونل آف انکوائریز آرڈیننس 1969ء‘ کے تحت ایک انکوائری کمیشن قائم کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کی جانب سے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کو اس تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ زیارت میں پولیس پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت متعدد پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ کمیشن اس واقعے کے تمام محرکات، سیکیورٹی نقائص اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے اپنی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کرے گا۔

انکوائری کمیشن کے دائرہ اختیار اور تحقیقاتی نکات درج ذیل ہیں:

  • سیکیورٹی اور غفلت کا جائزہ: کمیشن حملے کے وقت موجود سیکیورٹی انتظامات، نفری کی تعیناتی، ممکنہ انٹیلی جنس تھریٹ الرٹس اور سیکیورٹی فورسز و پولیس افسران کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔

  • ریکارڈ اور شواہد کی طلب: کمیشن کو تمام متعلقہ اداروں، سابق و موجودہ پولیس حکام سے دستاویزات حاصل کرنے اور کسی بھی شخص کو بلا کر بیان قلمبند کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

  • عوام اور میڈیا رپورٹس کا شاملِ تفتیش ہونا: کمیشن الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا رپورٹس کا جائزہ لے گا، جبکہ عام عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ واقعے سے متعلق معلومات و شواہد بلوچستان ہائیکورٹ میں قائم کمیشن دفتر میں جمع کرائیں۔

  • حتمی رپورٹ اور سفارشات: تحقیقات مکمل ہونے پر کمیشن غفلت کے مرتکب افراد کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر سیکیورٹی سفارشات اور حتمی رپورٹ پیش کرے گا۔