LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی سعودی عرب میں بدھ تک شدید گرمی، درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی عراق میں بس اور ٹرک میں تصادم، 7 سیاح جاں بحق، 23 زخمی آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے ماحولیاتی نقصان کھربوں ڈالر ہو سکتا ہے: ایران سعودی عرب میں قوانین کی خلاف ورزی پر 14 ہزار غیر ملکی گرفتار یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصیٰ میں زبردستی تلمودی رسومات ادا کرنے کے واقعات میں اضافہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او

طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار

Web Desk

17 August 2026

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ’عرب نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں افغان طالبان کی انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی افغانستان کے مختلف دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنے رہنے کی تصدیق کرتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے دہشت گردی کے خوفناک اعداد و شمار اور سرحدی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پیش کیے:

  • دہشت گردی کے ارقام: 2025ء میں پاکستان میں دہشت گردی کے 5,200 سے زائد واقعات میں 1,300 سے زیادہ افراد شہید ہوئے، جبکہ 2026ء کے پہلے 6 ماہ کے دوران 3,000 سے زائد حملوں میں 830 سے زائد پاکستانی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • اہم سیکیورٹی خطرات: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)، مجید بریگیڈ اور داعش (ISKP) پاکستان کی سلامتی کے لیے بڑے خطرات ہیں، جو دشمن عناصر کی پراکسیز کا کام کر رہے ہیں۔

  • طالبان کا تعاون و جدید اسلحہ: افغان طالبان محض صلاحیت کی کمی کا شکار نہیں بلکہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ گاہیں، مالی معاونت، منصوبہ بندی اور دراندازی میں سہولت دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

  • عالمی برادری کے مطالبات میں ناکامی: طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے 5 سال بعد بھی جامع حکومت، خواتین و بچیوں کی تعلیم و روزگار جیسے انسانی حقوق، اور افغان سرزمین کے عدم استعمال سے متعلق عالمی برادری کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔

عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کا تنازع عام افغان شہریوں سے نہیں بلکہ طالبان کی پالیسیوں سے ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود طالبان نے عملدرآمد کی یقین دہانی نہیں کروائی؛ لہٰذا افغان حکومت اپنی عالمی تنہائی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔