LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ باب المندب کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی امریکا اور ایران میں امن سمجھوتے یا مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خواجہ آصف مغربہ کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 254 ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ امریکی فورسز نے ایران جانے والے پاناما پرچم بردار تجارتی جہاز کو روک لیا مکہ دفاعی معاہدہ: شاہ سلمان کا مشترکہ کاوشوں پر محمد بن سلمان، شہباز شریف اور اردوان سے اظہار تشکر پاکستان، بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کا 9 واں اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا امریکا کے ایرانی شرائط ماننے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: محسن رضائی پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا: حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا سکیورٹی خدشات، ٹرمپ کے گالف کلب میں فضائی دفاعی نظام تعینات ٹاؤن شپ واقعہ: دونوں خواتین پر تشدد ثابت نہیں ہوا: سی سی پی او لاہور حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان رواں سال کا مکمل سورج گرہن کب ہو گا اور کس ملک میں نظر آئے گا شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیر فوڈ سکیورٹی کو سرپلس چینی برآمد کیلئے تیسرا خط اسحاق ڈار کی انڈونیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

Web Desk

10 August 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگوں کو کامیابی سے صاف کر دیا ہے۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کا کنٹرول مکمل طور پر امریکی بحریہ کے پاس ہے اور وہاں عائد کردہ ناکہ بندی اب تک بالکل ناقابلِ تسخیر رہی ہے۔ انہوں نے اس ناکہ بندی کو ایک فولادی دیوار سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز صرف انہی بحری جہازوں کو داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہیں جنہیں واشنگٹن اجازت دینا چاہتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے میں صورتحال قدرے پیچیدہ ہے کیونکہ ایران وقتاً فوقتاً اس آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھا دیتا ہے، تاہم امریکی فورسز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کا فوری سراغ لگا کر انہیں ناکارہ بنا دیتی ہیں۔

ایران کے ساتھ متوقع مذاکرات کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ، ایران کے خلاف اپنی عسکری اور اقتصادی کارروائی میں مزید تیزی لا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، ایران کی طرف سے گزشتہ تمام عرصے میں پہنچائے گئے جانی و مالی نقصانات کا بھاری ہرجانہ بھی طلب کرنے جا رہا ہے۔