LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم اورنگزیب سے چینی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی: رانا ثنا اللہ نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا سکوٹی پر سفر کرتی لڑکی سے غنڈہ گردی اور تشدد کرنے والا ملزم گرفتار استنبول میں پاکستان سمیت 7 ملکی اجلاس، خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں اسحاق ڈار کی آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن پر زور ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم کرنے کا دعویٰ، یوکرین میں سٹارلنک کا مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، تجارتی، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کراچی: پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے 2 بحری جہاز پہنچ گئے، 7 ہزار 600 میٹرک ٹن سے زائد گیس درآمد پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز پر ای پاسپورٹ کا اجرا شروع تائیوان میں سمندری طوفان چمپی کی تباہ کاریاں، ایک شخص ہلاک، 171 زخمی امریکی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام پہلی ’شاہکار فنکار‘ ایلومنائی آرٹسٹ نمائش کا افتتاح، مینا ہارون کے فن پارے پیش

ٹرمپ کا ایران پر نئی فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھنے کا اعلان

Web Desk

9 August 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے معاملے کو فی الحال کم شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے اور انہوں نے تہران کے خلاف کسی نئے بڑے فوجی آپریشن کا فی الوقت کوئی اشارہ نہیں دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ (Axios) کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان صرف “نیم مذاکرات” (Semi-negotiations) ہو رہے ہیں، تاہم واشنگٹن خطے میں پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت شدید معاشی بحران اور ریکارڈ مہنگائی کا شکار ہے، یہاں تک کہ اس کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، لیکن امریکہ اس اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے فی الحال نئی عسکری کارروائی سے گریز کرے گا۔ امریکی صدر نے اس تنازع کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ابھی اس کھیل کے درمیان میں ہیں اور بالآخر معاملے کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں $75 فی بیرل سے کچھ زائد رہنے کی وجہ سے امریکی صارفین پر جنگی اثرات اور معاشی دباؤ کم ہے۔