LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا زیادتی کیس میں اہم ویڈیو بیان جاری کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں، صوبہ دہشت گردی سے پاک کرینگے: فیصل کریم کینیڈا اور اٹلی کی اپنے شہریوں کو سعودیہ کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی استحکام، اصلاحات پر تبادلہ خیال وزیراعظم نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی سی سی ڈی اہلکار کی دوشیزہ سے زیادتی، ویڈیو بھی بنا لی، مقدمہ درج یونیورسٹی آف لندن میں لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا باعث اعزاز ہے: سارہ احمد پنجاب حکومت کا لاہور میں سہ روزہ بسنت کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد تک پہنچ گئی پیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار مریم اورنگزیب سے چینی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی: رانا ثنا اللہ نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا

باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا

Web Desk

23 October 2026

باغوں کا تاریخی شہر لاہور مسلسل پھیلتی تعمیرات اور سڑکوں کی توسیع کے باعث کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے، جہاں گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑنے سے درجہ حرارت، سموگ اور ماحولیاتی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ پرندوں کی کئی نایاب اقسام بھی کم ہو گئی ہیں۔

اربن یونٹ (Urban Unit) کی سائنسی اسٹڈی کے مطابق 2007ء سے 2015ء کے دوران لاہور میں درختوں کی تعداد میں 72 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2019ء تک شہر کا تقریباً 40 فیصد رقبہ کنکریٹ کی تعمیرات کی نذر ہو چکا تھا، جس کے بعد اب گھنا سبزہ 35 مربع کلومیٹر سے گھٹ کر صرف 19 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ شہر کے کل رقبے میں پارکس کا تناسب صرف 1.4 فیصد ہے، جو عالمی معیارات سے تین گنا کم ہے۔ عالمی معیار کے مطابق فی 1,000 افراد 0.9 ہیکٹر گرین اسپیس ہونی چاہیے، لیکن لاہور میں یہ شرح محض 0.2 ہیکٹر ہے۔

ماہرینِ ماحولیات نے تنبیہ کی ہے کہ فیروز پور روڈ، جی ٹی روڈ اور رائیونڈ روڈ پر زرعی زمینوں کی کمرشلائزیشن نے لاہور کی قدرتی فضا کو برباد کر دیا ہے۔ اگر فوری بنیادوں پر مؤثر شجرکاری، گرین اسپیسز کے تحفظ اور ماحولیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا میں سانس لینا ناممکن ہو جائے گا۔