باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا
Web Desk
23 October 2026
باغوں کا تاریخی شہر لاہور مسلسل پھیلتی تعمیرات اور سڑکوں کی توسیع کے باعث کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے، جہاں گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑنے سے درجہ حرارت، سموگ اور ماحولیاتی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ پرندوں کی کئی نایاب اقسام بھی کم ہو گئی ہیں۔
اربن یونٹ (Urban Unit) کی سائنسی اسٹڈی کے مطابق 2007ء سے 2015ء کے دوران لاہور میں درختوں کی تعداد میں 72 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2019ء تک شہر کا تقریباً 40 فیصد رقبہ کنکریٹ کی تعمیرات کی نذر ہو چکا تھا، جس کے بعد اب گھنا سبزہ 35 مربع کلومیٹر سے گھٹ کر صرف 19 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ شہر کے کل رقبے میں پارکس کا تناسب صرف 1.4 فیصد ہے، جو عالمی معیارات سے تین گنا کم ہے۔ عالمی معیار کے مطابق فی 1,000 افراد 0.9 ہیکٹر گرین اسپیس ہونی چاہیے، لیکن لاہور میں یہ شرح محض 0.2 ہیکٹر ہے۔
ماہرینِ ماحولیات نے تنبیہ کی ہے کہ فیروز پور روڈ، جی ٹی روڈ اور رائیونڈ روڈ پر زرعی زمینوں کی کمرشلائزیشن نے لاہور کی قدرتی فضا کو برباد کر دیا ہے۔ اگر فوری بنیادوں پر مؤثر شجرکاری، گرین اسپیسز کے تحفظ اور ماحولیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا میں سانس لینا ناممکن ہو جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا زیادتی کیس میں اہم ویڈیو بیان جاری
23 October 2026
کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری
23 October 2026
دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں، صوبہ دہشت گردی سے پاک کرینگے: فیصل کریم
23 October 2026
کینیڈا اور اٹلی کی اپنے شہریوں کو سعودیہ کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت
23 October 2026
وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی استحکام، اصلاحات پر تبادلہ خیال
23 October 2026
وزیراعظم نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی
23 October 2026
سی سی ڈی اہلکار کی دوشیزہ سے زیادتی، ویڈیو بھی بنا لی، مقدمہ درج
23 October 2026
یونیورسٹی آف لندن میں لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا باعث اعزاز ہے: سارہ احمد
23 October 2026