LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اردن کے چرچ میں آخری رسومات کے دوران فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 10 زخمی آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا زیادتی کیس میں اہم ویڈیو بیان جاری کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں، صوبہ دہشت گردی سے پاک کرینگے: فیصل کریم کینیڈا اور اٹلی کی اپنے شہریوں کو سعودیہ کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی استحکام، اصلاحات پر تبادلہ خیال وزیراعظم نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی سی سی ڈی اہلکار کی دوشیزہ سے زیادتی، ویڈیو بھی بنا لی، مقدمہ درج یونیورسٹی آف لندن میں لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا باعث اعزاز ہے: سارہ احمد پنجاب حکومت کا لاہور میں سہ روزہ بسنت کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد تک پہنچ گئی پیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار مریم اورنگزیب سے چینی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی: رانا ثنا اللہ نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی

نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی

Web Desk

23 October 2026

نیوزی لینڈ کی مسلح افواج کے سربراہ ایئر مارشل ٹونی ڈیویز نے کمانڈر کی حیثیت سے اپنے ماضی کے ایک نامناسب تعلق اور اس سے متعلق سچائی چھپانے کے انکشاف کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایئر مارشل ٹونی ڈیویز نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ وہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ذاتی وجوہات پر استعفیٰ دے رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک یونٹ کی کمانڈ کے دوران قائم ہونے والا تعلق اور بعد میں اس کے انکشاف سے گریز کرنا ڈیفنس فورس کی بنیادی اقدار اور دیانت داری کے اصولوں کے منافی تھا۔ انہوں نے اپنے اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نجی زندگی کے احترام کی درخواست کی ہے۔

نیوزی لینڈ کے وزیرِ دفاع پال گولڈسمتھ نے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سامنے آنے والے حالات اور دیانت داری کے مسائل کی وجہ سے دونوں اس بات پر متفق ہوئے کہ ان کا فوج کی سربراہی پر برقرار رہنا ممکن نہیں تھا۔ فوجی حکام کے مطابق معاملے کے تفصیلی جائزے کے لیے کیس کو ایک آزاد نگران ادارے کے سپرد کر دیا گیا ہے۔