LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اردن کے چرچ میں آخری رسومات کے دوران فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 10 زخمی آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا زیادتی کیس میں اہم ویڈیو بیان جاری کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں، صوبہ دہشت گردی سے پاک کرینگے: فیصل کریم کینیڈا اور اٹلی کی اپنے شہریوں کو سعودیہ کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی استحکام، اصلاحات پر تبادلہ خیال وزیراعظم نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی سی سی ڈی اہلکار کی دوشیزہ سے زیادتی، ویڈیو بھی بنا لی، مقدمہ درج یونیورسٹی آف لندن میں لیکچر کیلئے مدعو کیا جانا باعث اعزاز ہے: سارہ احمد پنجاب حکومت کا لاہور میں سہ روزہ بسنت کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان ہفتہ وار مہنگائی میں مزید 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 11.85 فیصد تک پہنچ گئی پیٹرول پمپ مالکان کا ڈیلی پرائس میکانزم پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار مریم اورنگزیب سے چینی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی: رانا ثنا اللہ نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں

Web Desk

23 October 2026

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مسلسل 13 سالہ حکومت کے بعد صوبے کا شعبہ تعلیم سنگین انتظامی و مالی بحران کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان کی مالی سال 2024-25ء کی رپورٹ میں خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اساتذہ کی نئی بھرتیوں اور طلبہ کو ٹیبلٹس کی فراہمی جیسے اہم منصوبوں میں 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ بنوں سے لے کر ہری پور تک متعدد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں اور اسکولوں کی مرمت و بحالی کے لیے مختص فنڈز مبینہ کرپشن کی نذر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ اور بونیر سمیت مختلف اضلاع میں درجنوں کلاس رومز کی حالت اتنی ابتر ہے کہ وہ مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں، جس سے ہزاروں بچوں کی باقاعدہ تعلیم شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔