LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ باب المندب کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی امریکا اور ایران میں امن سمجھوتے یا مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خواجہ آصف مغربہ کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 254 ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ امریکی فورسز نے ایران جانے والے پاناما پرچم بردار تجارتی جہاز کو روک لیا مکہ دفاعی معاہدہ: شاہ سلمان کا مشترکہ کاوشوں پر محمد بن سلمان، شہباز شریف اور اردوان سے اظہار تشکر پاکستان، بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کا 9 واں اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا امریکا کے ایرانی شرائط ماننے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: محسن رضائی پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا: حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا سکیورٹی خدشات، ٹرمپ کے گالف کلب میں فضائی دفاعی نظام تعینات ٹاؤن شپ واقعہ: دونوں خواتین پر تشدد ثابت نہیں ہوا: سی سی پی او لاہور حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان رواں سال کا مکمل سورج گرہن کب ہو گا اور کس ملک میں نظر آئے گا شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیر فوڈ سکیورٹی کو سرپلس چینی برآمد کیلئے تیسرا خط اسحاق ڈار کی انڈونیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن میں 7 نئے ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض

Web Desk

9 August 2026

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے عام انتخابات کے جاری عمل کے دوران آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن (AJKPSC) میں سات نئے ارکان کو تین سال کی مدت کے لیے مقرر کر دیا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ 8 اگست کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مدحت شہزاد، منیر حسین چوہدری، ڈاکٹر لیاقت حسین، محمد زاہد خان، ڈاکٹر عبد القدوس خان، ڈاکٹر عبد الحمید اور محمد سلیم خان کو رکن مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں کی نگرانی کرنے والے اس اہم آئینی ادارے میں ان طویل مدتی تقرریوں کو سیاسی اور انتظامی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے دوران ہونے والی ان تقرریوں پر اپوزیشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران آئینی اداروں میں طویل مدتی تقرریاں اخلاقی اور سیاسی طور پر غیر مناسب ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما خواجہ فاروق احمد کا کہنا ہے کہ پبلک سروس کمیشن میں فیصلے نئی منتخب حکومت پر چھوڑے جائیں تاکہ وہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق اداروں کو منظم کر سکے۔ دوسری جانب، حکومت کی طرف سے انتخابی ایام میں ان تقرریوں پر ابھی تک کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد ان تقرریوں کے قانونی و انتظامی جواز پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔