LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق امریکی صدر ٹرمپ کی مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات،ایران کیخلاف بڑےحملوں پرغور ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے انکار سابق برطانوی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کہ وجہ بنا: ایرانی سفیر حوثیوں نے ٹیلی کمیونیکیشن پر سعودی حملوں کو سنگین غلطی قرار دیدیا تہران کی اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں: ایرانی چیف جسٹس مودی کے ویڈیو پیغام پر بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا کا شدید برہمی کا اظہار امریکا اور ایران کے شہری تنصیبات پر حملے جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہیں: ہیومن رائٹس واچ فرانس کے جنگلات میں آتشزدگی، ڈیڑھ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ایران کا خطے کی ریاستوں کے شہریوں کو امریکی تنصیبات سے 500 میٹر دور رہنے پر زور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی ریکارڈ روس کا جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیارہ گر کر تباہ گوگل پر 1 ارب ڈالر جرمانہ کیوں کیا؟ ٹرمپ یورپی یونین پر برہم؛ بھاری ٹیرف کی دھمکی جاپان نے گرمی کا توڑ ڈھونڈ نکالا، چند منٹوں میں جسم کو ٹھنڈا کرنے والا ’ہیومن فریج‘تیار چینی کوسٹ گارڈ نے پانی کی توپ چلا کر متنازع پانیوں میں فلپائنی جہاز کے داخلے کی کوشش ناکام بنادی باب المندب سب کیلئے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے: حوثی ترجمان

باب المندب سب کیلئے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے: حوثی ترجمان

Web Desk

25 July 2026

یمن کے حوثی گروپ (انصار اللہ) نے باب المندب آبنائے کو عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند کیے جانے تاثر اور خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ ان کی بحری ناکہ بندی کا ہدف صرف سعودی عرب کے جہاز ہیں، جبکہ دیگر تمام تجارتی و بین الاقوامی جہازوں کے لیے یہ آبی گزرگاہ معمول کے مطابق کھلی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور مرکزی ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ باب المندب کی مکمل بندش سے متعلق گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا فیصلہ یمن پر مسلسل قائم محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کی ناکامی کے ردِعمل میں کیا گیا ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو یقینی بنا سکے۔

محمد عبدالسلام کا مزید کہنا تھا کہ ان کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ یمن کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکل سکے۔ واضح رہے کہ انصار اللہ غزہ میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023ء سے بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں بحری جہازوں کو نشانہ بناتی رہی ہے، تاہم اب انہوں نے سعودی عرب کے خلاف علیحدہ ناکہ بندی کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔