LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وارننگ پر برطانیہ کا اہم بیان ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ناکام برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا وزیر اعظم کو خط، اسرائیل کی غزہ پالیسی پر مؤقف تبدیل کرنے کا مطالبہ ٹرمپ نے ایران پر اب تک کے سب سے بڑے حملے پر غور شروع کر دیا، ایگزیوس ایم آئی 5 کو صحافی کا غیرقانونی طور پر ڈیٹا لینے پر معاوضہ ادا کرنے کا حکم امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کیخلاف جنگ روکنے کی قرارداد پھر منظور ٹرمپ کی نقل اتارنے والے شخص کی ویڈیو وائرل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا: کریملن پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے: انتونیو گوتریس ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا عراقی وزیراعظم علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

سعودی امریکا جوہری معاہدہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، نفتالی بینٹ

Web Desk

23 July 2026

اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم نفتالی بینٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر اور یورینیئم افزودگی کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے، جس پر اسرائیل میں مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ نفتالی بینٹ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر یہ پیشرفت ایک سنگین اسٹریٹجک ناکامی ہے جو خطے میں خطرناک عدم استحکام کا سبب بنے گی۔ سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع ایویگڈور لیبرمین نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے سعودی عرب کی ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے، لہٰذا اسرائیل کو امریکی کانگریس پر دباؤ ڈال کر اسے رکوانا چاہیے۔ اگرچہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم ناقدین اسے اسرائیل کے سلامتی مفادات کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ اور سابق صدر جو بائیڈن کے ادوار میں بھی اس معاہدے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں