LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سرحد پار تجارت کو ڈیجیٹلائزیشن کرنے کیلئے پہلی بار موبائل ایپ لانچ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارشیں، 43 افراد جاں بحق، 177 زخمی، کئی گھر منہدم پاکستان سمندری اثاثوں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے: دفتر خارجہ پاکستانی چاول کی مانگ میں اضافہ، میٹرک ٹن کے نئے آرڈر موصول ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی تمام پیداوار برآمد کرنا لازمی پاکستان اور چین کا ٹرانسپورٹ و بندرگاہی شعبے میں تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی صدر آصف زرداری کی مون سون میں تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا وسیع کریک ڈاؤن، 3000 کشمیری گرفتار، مکانات مسمار پاکستان اور عمان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاسداران انقلاب کے کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے، بھاری نقصان بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے: پاکستان پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، ڈرون اُڑانے پر پابندی برقرار مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ روس کی ایران کو امریکی اہداف کی نشاندہی میں معاونت پر امریکا کی تحقیقات

بھارتی پولیس کی بربریت کے باوجود مختلف شہروں میں نوجوانوں کا احتجاج جاری

Web Desk

23 July 2026

تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس کے معاملے پر مودی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے دارالحکومت دہلی کے بعد اب تمام بھارتی ریاستوں تک پھیل چکے ہیں۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کے شدید تشدد کے باوجود ہزاروں نوجوان سڑکوں پر موجود ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر وائرل ویڈیوز کے مطابق کیرالہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو، گوا، گجرات، بہار اور مغربی بنگال سمیت متعدد ریاستوں میں طلبہ نے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست مظاہرے کیے ہیں۔ عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق طلبہ کی حمایت اور احتجاج میں شرکت پر بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت کے خلاف مظاہرے تیز کر دیے گئے ہیں۔

کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں اور آنسو گیس کے شیل داغے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبات کے ساتھ انتہائی غیر شائستہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بھارتی پارلیمنٹ کے رکن ملکارجن کھرگے نے مودی کے طرزِ حکومت کو آمریت قرار دیا جبکہ کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر تعلیم کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے اپنے بیان میں کہا کہ نوجوانوں کے احتجاج اور ان پر ہونے والے پولیس تشدد کی تصاویر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت میں پُرامن اختلافِ رائے کو سختی سے دبایا جا رہا ہے۔