LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

ن لیگ نے 27ویں آئینی ترمیم پر پیپلز پارٹی کی حمایت مانگ لی، بلاول بھٹو زرداری

Web Desk

3 November 2025

اسلام آباد : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا وفد صدر آصف علی زرداری اور ان سے ملاقات کے لیے آیا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت طلب کی گئی۔
بلاول بھٹو کے مطابق مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلوں کا اختیار اور آرٹیکل 243 میں تبدیلی جیسے نکات شامل ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصے کے تحفظ کے خاتمے، تعلیم و آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات وفاق کو واپس دینے اور الیکشن کمیشن کی تقرری کے تعطل کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ان کے مطابق، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کا اجلاس 6 نومبر کو صدر آصف علی زرداری کی دوحہ سے واپسی پر طلب کیا گیا ہے، جس میں مجوزہ آئینی ترمیم پر پارٹی کی حتمی پالیسی طے کی جائے گی۔