طلبہ کی مدد کیلئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا انسانی روبوٹ متعارف
Web Desk
21 July 2026
امریکی ریاست نیویارک کے ایک ہائی سکول میں تدریسی عمل کو جدید بنانے کے لیے تقریباً 57,600 امریکی ڈالرز کی لاگت سے مصنوعی ذہانت سے لیس انسانی شکل کا روبوٹ بطور معاون ٹیچر متعارف کرا دیا گیا ہے۔ یہ روبوٹ ابتداء میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو کوڈنگ، روبوٹکس اور AI جیسے مضامین سکھانے میں اساتذہ کی مدد کرے گا۔ انسان جیسی جلد، بھورے بال اور متحرک ہاتھوں کی خصوصیات سے لیس یہ روبوٹ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ایک جگہ نصب ہے۔ سکول انتظامیہ کے مطابق روبوٹ کا مقصد اساتذہ کا متبادل بننا نہیں بلکہ طلبہ میں تخلیقی سوچ اور ٹیکنالوجی کی سوجھ بوجھ پیدا کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے جواب میں انتظامیہ نے واضح کیا کہ روبوٹ انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہے اور طلبہ کی کسی قسم کی ویڈیو، آواز یا ذاتی معلومات جمع نہیں کرتا، جبکہ بنیادی تدریسی ذمہ داری انسانی اساتذہ ہی سنبھالیں گے۔
متعلقہ عنوانات
کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے
23 October 2026
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید
23 October 2026
سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف
23 October 2026
جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان
23 October 2026
روس نے اسرائیل کے ماسکو پر یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے
23 October 2026
یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن
23 October 2026
دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی
23 October 2026
پیوٹن کو انسان دوست قرار دینے پر زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف پر تنقید
23 October 2026