LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر کیمپ 2026 میں شریک طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست ایرانی فوج کے کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے، اسلحہ ڈپو، ریڈارز تباہ امریکا کے مسلسل آٹھویں رات ایران پر حملے، آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے فٹ بال کے عالمی میلے کا آج رات فیصلہ کن معرکہ، تاج کس کے سر سجے گا؟ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور خوشحالی مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے: صدر، وزیراعظم طبی تعلیم اور تحقیق میں پاک-امریکہ تعاون کا بڑا معاہدہ؛ نیویارک میں ایم او یو پر دستخط، ٹرمپ کی دعوت پر لبنانی صدر اہلیہ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے متحدہ عرب امارات کا کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کو دنیا بھر میں محتاط رہنے کا مشورہ امریکی افواج کو ایران کے جوابی اقدامات سے بچنے کیلئے فوری نکل جانا چاہیے، ابراہیم عزیزی ایران نے شمالی عراق کے کرد علاقے سے ملحق دو سرحدی گزر گاہیں بند کر دیں ایران کے شمالی عراق میں کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں پر حملے اربیل میں ڈرون حملوں کے بعد امریکی قونصل خانے کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا ایران کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا

امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف بڑے فضائی حملوں کا آغاز، تہران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، سینٹ کام کا باضابطہ اعلان

Web Desk

18 July 2026

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئے اور بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پینٹاگون کو ملنے والے گرین سگنل کے بعد امریکی جنگی طیاروں اور میزائلوں نے ایرانی حدود اور ان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فضائی حملوں کے تین بنیادی مقاصد ہیں۔ اول، تزویراتی طور پر اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش ایرانی خطرات سے محفوظ بنانا؛ دوم، مستقبل میں کسی بھی کارروائی کے لیے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا؛ اور سوم، گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کر کے امریکی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کرنے والی ایرانی فورسز کو فوری اور عبرت ناک سزا دینا ہے۔ عسکری مبصرین کے مطابق، ان حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ حقیقی شکل اختیار کر گیا ہے۔