LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام امریکا کا برازیل پر بعض درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان روس کا یوکرین میں تعینات کسی بھی بین الاقوامی فوج کو نشانہ بنانے کا اعلان تین مرتبہ میئر لندن منتخب ہونے والے صادق خان کو تاحیات لارڈز بنانے کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم کا سینیٹر لنزے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار چین کا حقیقی معنوں میں انسانی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کا مطالبہ

چین کا حقیقی معنوں میں انسانی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کا مطالبہ

Web Desk

17 July 2026

چین نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) جیسی جدید تکنیکی ترقی کو حقیقی معنوں میں انسانی معاشرے کی فلاح، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے اپنی یومیہ پریس بریفنگ کے دوران شنگھائی میں شروع ہونے والی “عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026” اور “مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی پر اعلیٰ سطحی کانفرنس” کے انعقاد پر گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

چینی ترجمان نے بتایا کہ اس عالمی کانفرنس کا آغاز 17 جولائی (آج) سے شنگھائی میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس اہم ترین فورم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام عالمی فریقین کے ساتھ کھلے دل سے تبادلہ خیال کرنے اور وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ چین کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس جدید ذہین دور (Intelligent Era) کے ثمرات اور فوائد دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ ترقی پذیر ممالک تک پہنچ سکیں۔

لین جیان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پوری انسانیت کے مشترکہ مفادات اور مستقبل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیجنگ انتظامیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تیز رفتار ترقی اور اس کی سلامتی کے درمیان بہترین توازن برقرار رکھنے کے اصول پر کاربند ہے۔ انہوں نے عالمی برادری میں ٹیکنالوجی کے نام پر کی جانے والی نظریاتی تقسیم اور یکطرفہ تکنیکی ناکہ بندیوں کی سخت مخالفت کی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چین عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی جدت اور ترقی کے معیار کو بلند کرنے کے لیے اپنے تجربات، مہارت اور کامیابیاں دنیا بھر کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔