LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

برطانیہ میں 17 سال کے نوجوانوں کیلئے سوشل میڈیا پر رات 12 سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کی تجویز

Web Desk

16 July 2026

برطانوی حکومت نے نئی نسل کو ذہنی تناؤ سے بچانے اور ان کی روزمرہ زندگی کو منظم کرنے کے لیے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر رات کا کرفیو نافذ کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس انوکھی تجویز کے تحت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک کے اوقات میں نوجوانوں کے لیے خودکار (Automatic) طور پر بند رہیں گے۔ تاہم، پالیسی میں لچک رکھتے ہوئے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ اگر صارفین چاہیں تو خود اپنی سیٹنگز تبدیل کر کے اس پابندی کو ختم کر سکتے ہیں۔

اس کرفیو کے علاوہ برطانوی حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس بات کا پابند بھی بنانا چاہتی ہے کہ وہ نوعمر صارفین کے لیے ‘آٹو پلے’ (پلے لسٹس کا خود بخود چلنا) اور ‘لامتناہی اسکرولنگ’ (Infinite Scroll) جیسے لت پیدا کرنے والے فیچرز کو ڈیفالٹ طور پر بند رکھیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی نیند کا دورانیہ پورا کرنا، ان کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا اور خاندانی و سماجی زندگی کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے اس مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پابندیاں لازمی نہیں ہیں اور نوجوان انہیں موبائل سیٹنگز سے آسانی سے بند کر سکتے ہیں، اس لیے عملی طور پر ان کی مؤثریت انتہائی محدود ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کا واحد درست راستہ یہی ہے کہ 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے