LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش، فلسطینیوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ باب المندب کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی امریکا اور ایران میں امن سمجھوتے یا مفاہمت کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خواجہ آصف مغربہ کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 254 ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ امریکی فورسز نے ایران جانے والے پاناما پرچم بردار تجارتی جہاز کو روک لیا مکہ دفاعی معاہدہ: شاہ سلمان کا مشترکہ کاوشوں پر محمد بن سلمان، شہباز شریف اور اردوان سے اظہار تشکر پاکستان، بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کا 9 واں اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا امریکا کے ایرانی شرائط ماننے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: محسن رضائی پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا: حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا سکیورٹی خدشات، ٹرمپ کے گالف کلب میں فضائی دفاعی نظام تعینات ٹاؤن شپ واقعہ: دونوں خواتین پر تشدد ثابت نہیں ہوا: سی سی پی او لاہور حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان رواں سال کا مکمل سورج گرہن کب ہو گا اور کس ملک میں نظر آئے گا شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیر فوڈ سکیورٹی کو سرپلس چینی برآمد کیلئے تیسرا خط اسحاق ڈار کی انڈونیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

ٹرمپ کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا اعلان، نئی پابندیوں کا عندیہ

Web Desk

14 July 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج کی بے پناہ طاقت کی بدولت آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ روانی سے جاری ہے، تاہم ایران کی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے اور ایرانی کارگو لے جانے والے تمام بحری جہازوں پر مکمل ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے امریکی وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین اور سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عسکری قیادت کی بدولت یہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ایران کے علاوہ تمام ممالک کے جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اپنے ملک کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ مزید برآں، امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سے کامیاب مذاکرات کے بعد انہوں نے مجوزہ 20 فیصد فیس کے بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کو ترجیح دی ہے، جس کے تحت امریکہ میں تاریخی پیمانے پر خلیجی سرمایہ کاری لائی جائے گی جو لاکھوں نئی اور اعلیٰ ملازمتوں کی تخلیق کا سبب بنے گی۔