LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

پیمرا 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کے واجبات وصول کرنے میں ناکام

Web Desk

13 July 2026

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے مالیاتی امور سے متعلق آڈیٹر جنرل کی ایک تشویش ناک آڈٹ رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پیمرا انتظامیہ 8 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کے واجبات وصول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کو مختلف خلاف ورزیوں پر عائد کیے گئے جرمانوں کی مد میں بھی 74 لاکھ روپے کی رقم وصول نہیں ہو سکی، جبکہ کیبل ٹی وی، سیٹلائٹ ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو چینلز سے بقایاجات کی ریکوری بھی تعطل کا شکار ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے واجبات کی عدم وصولی کو پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 کی کھلی خلاف ورزی اور انتظامیہ کی سنگین غفلت قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دستاویز کی تکمیل تک پیمرا انتظامیہ اس آڈٹ اعتراض کا کوئی معقول جواب دینے میں ناکام رہی۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام بقایا واجبات کو فوری طور پر وصول کیا جائے اور مستقبل میں ریکوری کے نظام کو فول پروف اور مضبوط بنایا جائے۔