LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

میٹا نے جذبات کی پیمائش کرنے والی نئی اے آئی ڈیوائس کا پیٹنٹ دائر کر دیا

Web Desk

12 July 2026

فیس بک اور انسٹاگرام کی بانی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ‘میٹا’ نے ایک ایسی جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ڈیوائس کا پیٹنٹ دائر کیا ہے جو صارف کی ہنسی، آہ بھرنے، بولنے کے انداز اور دیگر زبانی و غیر زبانی اشاروں کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اس کی حقیقی جذباتی کیفیت کا اندازہ لگا سکے گی۔ امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں دائر کی گئی اس دستاویز کے مطابق، مشین لرننگ ماڈلز پر مبنی یہ ٹیکنالوجی صارف کے مقام اور اس کے رویوں کو مانیٹر کرے گی اور بعد ازاں صارف کو اس کی ذاتی ‘جذباتی پیمائش’ (Emotional Metric) دکھائے گی تاکہ وہ اپنی ذہنی و نفسیاتی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔ پیٹنٹ میں مثال دی گئی ہے کہ اگر کوئی صارف گھر بیٹھے ویڈیو کال کے دوران مایوس، اداس یا بے دلی سے گفتگو کر رہا ہوگا تو یہ اے آئی ڈیوائس اس کے اندازِ گفتگو اور چہرے کے تاثرات سے فوری طور پر اس کی ذہنی کیفیت کو شناخت کر لے گی۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اس ایجاد کو فیوچر ٹیک اور انسانی نفسیات کے ملاپ میں ایک بڑا مائل اسٹون قرار دے رہے ہیں، تاہم اس سے صارفین کی پرائیویسی سے متعلق نئے خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں۔