LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے 60 روزہ مفاہمتی معاہدے کو جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کیا: امریکی اخبار فلسطینیوں پر تشدد تشویشناک، دو ریاستی حل پر عمل کیا جائے: پوپ لیو عراق میں نائب وزیر کے گھر پر چھاپہ، لاکھوں ڈالرز اور سونے کی اینٹیں برآمد اسرائیلی فوج کی لبنان میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تیاری وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل

آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو فوجی کارروائی کریں گے، امریکی نائب صدر کا ایران کو انتباہ

Web Desk

8 July 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکہ اس کے خلاف براہِ راست اور بھرپور فوجی کارروائی کرے گا۔ واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم نیوز بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کسی بھی ایسی اشتعال انگیزی کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔ انہوں نے امریکی موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے تہران کے سامنے صاف متبادل رکھ دیا ہے؛ اگر ایران تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند کر دے تو امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کر دے گا، لیکن اگر جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ کی جانب سے مزید سخت جوابی عسکری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ اس وقت ایران کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ اسٹریٹجک معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے بین الاقوامی بحری راستوں کو کھلا رکھے اور تجارتی جہاز رانی پر حملے روک دے، یا پھر اسے گزشتہ رات کی طرح مسلسل امریکی فضائی اور عسکری کارروائیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جے ڈی وینس نے واشنگٹن کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک تعطل کے بغیر جاری رہے گا جب تک ایران اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا دیتا اور تجارتی جہازوں پر حملے مستقل طور پر بند نہیں کر دیتا۔