LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر وزیراعظم کا جائزہ اجلاس چائلڈ پورنوگرافی، زبردستی شادیوں اور جرگوں کےرپورٹ میں ہولناک انکشافات ایران، امریکا کشیدگی: قطر اور چین کی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل خیبرپختونخوا اسمبلی کا نیا استحقاق قانون آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے، اختیار ولی ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی، وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا: ٹرمپ نیٹو چیف نے ایران پر امریکی حملوں کو ناگزیر قرار دے دیا ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ فلیگشپ پراجیکٹ ہے، کوتائی برداشت نہیں کرونگی: مریم نواز الیکشن کمیشن نے ٹی ایل پی انٹرا پارٹی الیکشن کیس پر فیصلہ محفوظ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران شدید مندی کا رجحان ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی فیفا ورلڈکپ2026 : کوارٹر فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی تیل فروخت کا ایرانی لائسنس منسوخ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ: تلاش کے لیے بحری و فضائی آپریشن تیز، کراچی میں ایئرلائن کے دفاتر سیل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہم منصب سے ملاقات، انسداد منشیات اور پولیس ٹریننگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق پاسداران انقلاب کا 85 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران، امریکا کشیدگی: قطر اور چین کی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

Web Desk

8 July 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی پر قطر اور چین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق، قطر نے ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر کیے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے شدید نقصان دہ قرار دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ خطے کو ان بلاجواز حملوں کے نتائج سے بچانے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ دوسری جانب، امریکی فوج کی جانب سے ایران میں متعدد اہداف پر کیے گئے فضائی حملوں کے بعد چین نے بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کو دوبارہ بھڑکانا کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور عسکری کارروائیاں مسائل کا حل نہیں ہو سکتیں، لہٰذا دونوں ممالک تحمل سے کام لیتے ہوئے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔