پاکستان ریلوے پہلی بار 115 ارب روپے آمدن کے ساتھ منافع میں آیا: حنیف عباسی
Web Desk
6 July 2026
وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے اپنی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار خسارے سے نکل کر منافع میں آ گئی ہے اور محکمہ نے 115 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے 65 ارب روپے خالص منافع کمانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ریلوے کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور 23 مارچ تک 80 نئے پاور پلانٹ پاکستان ریلوے کا حصہ بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے تعاون سے اب تک پرائیویٹائز کی گئی پانچ ٹرینوں سے 3 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے جبکہ دیگر ٹرینوں کی نجکاری کا عمل بھی پائپ لائن میں ہے۔ اس کے علاوہ عوام ایکسپریس کے تین نئے ریک آ چکے ہیں، جبکہ قراقرم ایکسپریس اور ملت ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینوں کو جون 2026ء تک مکمل طور پر ری فربش (جدید) کر دیا جائے گا۔
فریٹ سیکٹر اور ترقیاتی منصوبے (ML-1) حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے اپنی تاریخ میں پہلی بار فریٹ (اموالِ تجارت کی ترسیل) کے شعبے سے 41 ارب روپے کمائے ہیں۔ دستیاب رولنگ اسٹاک اور بندرگاہوں کا مؤثر استعمال اس کامیابی کی وجہ بنا۔ انہوں نے ریلوے کے اسٹریٹجک منصوبوں ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کو ریلوے کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ساتھ ایم ایل ون منصوبے پر بات چیت حتمی مراحل میں ہے اور جلد وزیراعظم شہباز شریف اس کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے روہڑی سے کراچی کا سفری وقت تقریباً 5 گھنٹے کم ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر نے ملک گیر نیٹ ورک کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار چاروں صوبوں میں 8 نئے برانچ ریلوے روٹس تعمیر کیے جائیں گے اور اورنج ٹرین سروس کا دائرہ کار دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔ بلوچستان حکومت نے پیپلز ٹرین منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کر دیے ہیں جبکہ سندھ کے دو نئے ریلوے روٹس کے معاہدے پر جلد دستخط ہوں گے۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روہڑی جنکشن کو جدید خطوط پر ازسرنو تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ راولپنڈی، خانیوال، کوٹری، لاہور اور پشاور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ گارڈ رومز اور ریسٹ ایریاز قائم کیے جا رہے ہیں۔ کاہنہ جیسے حادثات سے بچنے کے لیے بوسیدہ ریلوے کوارٹرز کی ازسرنو تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔
ریلوے ملازمین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جی پی فنڈز کی مد میں 50 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کر دی گئی ہیں۔ ریلوے اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور ریلوے اسپتالوں کی نجکاری کے بعد ملازمین کو 25 لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی۔
انہوں نے محکمے میں شفافیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے تمام ٹھیکے اوپن آکشن (کھلی نیلامی) کے ذریعے دیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، بادامی باغ کی نیلامی سے 52 ملین روپے کے بجائے ساڑھے چار سو ملین روپے کی بھاری آمدن حاصل ہوئی۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بطور وزیر اپنے لیے مختص خصوصی سیلون صرف ایک بار استعمال کیا اور اپنے گھر کے کسی ذاتی ملازم کو ریلوے کا کوئی مفت ٹکٹ جاری نہیں کیا، جو محکمے میں وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی دلیل ہے۔
متعلقہ عنوانات
عمران خان سے ملاقات کیلئے فہرست جاری
6 July 2026
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 4 اہم اجلاس طلب؛ ہائی کورٹس کے ججز کی مستقلی اور نئی تعیناتیوں پر غور ہوگا
6 July 2026
غیر ملکی ہیکرز کا سی ڈی اے پر بڑا سائبر حملہ؛ اسلام آبادیوں کا ٹیکس و بلنگ ڈیٹا ہیک، بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت
6 July 2026
متنازعہ ٹویٹس کیس؛ سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری
6 July 2026
لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا و زیادتی کیس میں اہم انکشافات؛ گینگ کا سرغنہ ‘وحید طاہر’ نکلا، اعضاء فروخت کرنے کی دھمکیاں دینے کا انکشاف
6 July 2026
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل
6 July 2026
صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش
6 July 2026
مودی حکومت عالمی پانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہے: عظمیٰ بخاری
6 July 2026