LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

کراچی میں رواں سال ٹریفک حادثات نے 488 جانیں لے لیں، 5830 افراد زخمی

Web Desk

4 July 2026

شہرِ قائد میں رواں سال ٹریفک حادثات نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک 488 افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 5 ہزار 830 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

ریسکیو حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں ہونے والے ان حادثات میں سب سے بڑا عنصر ہیوی وہیکلز (بھاری گاڑیاں) بنیں، جن کی زد میں آ کر 158 افراد جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ مہلک حادثات ٹریلرز کی وجہ سے رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں 74 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس کے علاوہ، شہر بھر میں تیز رفتار واٹر ٹینکرز کی ٹکر سے ہونے والے حادثات میں 41 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ٹریفک حادثات کے ان خوفناک اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد، حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے شہر میں بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت اور ان کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے