LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ برطانیہ میں فلائٹ آپریشن متاثر، صدر مملکت کی پرواز تاخیر کا شکار

انڈونیشیا؛ بار بار چوری سے تنگ مالک مکان نے ملزمان کو پکڑ کر ٹیپ میں لپیٹ دیا

Web Desk

3 July 2026

انڈونیشیا میں بار بار کی چوری چکاری سے تنگ آئے مقامی لوگوں کی جانب سے مبینہ چوروں کو پکڑ کر ان کے گرد رنگ برنگی ڈکٹ ٹیپ لپیٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے آن لائن دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چوروں کی مسلسل وارداتوں سے پریشان ایک مکان مالک نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر جال بچھایا اور چار مشتبہ دراندازوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے یا روایتی تشدد کا نشانہ بنانے کے برعکس، مقامی لوگوں نے ان چوروں کو سزا دینے کا ایک انتہائی انوکھا اور طنزیہ طریقہ اپنایا۔ شہریوں نے چاروں ملزمان کو سر سے لے کر پاؤں تک مختلف رنگوں کی پلاسٹک ٹیپ میں اس طرح جکڑ دیا کہ وہ مشہور کارٹونی کردار ‘ٹیلی ٹبیز’ (Teletubbies) کی طرح دکھائی دینے لگے۔

بعد ازاں ان باندھے گئے مشتبہ افراد کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئی، جہاں اسے لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس واقعے نے جہاں سوشل میڈیا صارفین کو حیران کیا، وہی انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ریاست اور پولیس کی مبینہ لاپرواہی اور جرائم پر قابو پانے میں ناکامی نے شہریوں کو اس حد تک مایوس کر دیا تھا کہ وہ ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے تشدد کے بغیر چوروں کو سدھارنے کی اچھی کوشش کی۔ دوسری طرف، ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اور چوروں کا اس طرح عوامی سطح پر مذاق اڑانے کے بجائے انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا۔