LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایکسائز بلوچستان کی بڑی کارروائی، 74 ارب کی منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا این ڈی ایم اے کا آئندہ 72 گھنٹوں کے لیے ملک گیر الرٹ: بالائی علاقوں میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خدشہ افغان سرحد کی بندش اور خلیجی تنازع سے 3 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہوئی: وزیر تجارت جام کمال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کا اعادہ، صوبوں کو فوری فراہمی کی ہدایت عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ دے دیا پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا اجلاس: جون 2027 تک پٹرول ڈی ریگولیٹ کرنے اور نئے طریقہ کار کی سفارشات پر اتفاق سانحہ 9 مئی کیسز: ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی مومنہ اقبال و ثاقب چڈھر کیس: نئے ڈیجیٹل شواہد پر دوبارہ نوٹس جاری، ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات نہ ہو سکی وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار

چمٹے کی تال سے دنیا کو مسحور کرنے والے عالم لوہار کی 47 ویں برسی آج منائی جارہی ہے

Web Desk

3 July 2026

پاکستان کے مایہ ناز لوک اور صوفی گلوکار عالم لوہار کی 47 ویں برسی آج 3 جولائی کو عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ تقریباً نصف صدی بیت جانے کے باوجود ان کی سحر انگیز آواز، چمٹے کی مخصوص تھاپ اور صوفیانہ گائیکی کا منفرد انداز آج بھی دنیا بھر میں موجود موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔

یکم مارچ 1928 کو ضلع گجرات کے نواحی گاؤں میں پیدا ہونے والے عالم لوہار نے بچپن سے ہی سُروں کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ روایتی رنگ برنگا کرتا، چست پاجامہ اور ہاتھ میں چمٹا ان کی ایسی منفرد پہچان بنے کہ وہ جہاں بھی جاتے، میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے پنجاب کی لوک کہانیوں خصوصاً ‘ہیر رانجھا’، ‘سیف الملوک’ اور ‘مرزا صاحباں’ کو اپنی مخصوص طرز میں گا کر امر کر دیا۔ ان کی گائی ہوئی ‘جگنی’ آج بھی لوک موسیقی کا ایک لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

عالم لوہار نے چمٹے کو صرف ایک پس منظر کے ساز کے طور پر نہیں بلکہ ایک مرکزی آلۂ موسیقی کے طور پر متعارف کروایا، جس نے پنجابی موسیقی کو ایک نئی توانائی اور شناخت دی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کیا اور لوک ثقافت کو بین الاقوامی اسٹیج پر متعارف کروایا۔ موسیقی کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 3 جولائی 1979 کو ایک ٹریفک حادثے میں مداحوں سے بچھڑ گیا تھا، لیکن ان کا ورثہ ان کے بیٹے عارف لوہار کی صورت میں آج بھی زندہ ہے