امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ, پیدائشی شہریت کا حق برقرار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد
Web Desk
30 June 2026
امریکی سپریم کورٹ نے ملک میں رائج دہائیوں پرانے ‘پیدائشی شہریت’ (Birthright Citizenship) کے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم نامے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچوں سے یہ حق چھیننے کی کوشش کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے منگل کے روز جاری کیے گئے اکثریتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ چودہویں آئینی ترمیم کے تحت امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر بچہ خودبخود امریکی شہری بن جاتا ہے، چاہے اس کے والدین کی امیگریشن کی حیثیت قانونی ہو یا غیر قانونی۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی رائے تحریر کرتے ہوئے لکھا: “امریکہ میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے امریکی دائرہ اختیار کے تابع ہیں اور چودہویں ترمیم کے تحت پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں۔”
اس تاریخی مقدمے، جسے ‘ٹرمپ بنام باربرا’ (Trump v. Barbara) کا نام دیا گیا، کا فیصلہ 5 ججز کی اکثریت سے سامنے آیا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس کے ساتھ قدامت پسند (Conservative) جج ایمی کونی بیریٹ اور عدالت کے تینوں لبرل ججز ایلینا کاگن، سونیا سوٹومائیر اور کیٹانجی براؤن جیکسن نے اس آئینی حق کے حق میں ووٹ دیا۔ دوسری جانب، ایک اور قدامت پسند جج بریٹ کاوانا نے اگرچہ صدارتی حکم نامے کو مسترد کیا، لیکن ان کا مؤقف تھا کہ یہ آرڈر آئین کے بجائے 1940 کے ایک وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
عدالت کے دیگر تین قدامت پسند ججز کلیرنس تھامس، سیموئل الیٹو اور نیل گورسچ نے اس فیصلے سے شدید اختلاف کیا۔ جج سیموئل الیٹو نے اپنے اختلافی نوٹ میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ “عدالت نے ایک سنگین غلطی کی ہے۔”
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو وائٹ ہاؤس میں اپنی واپسی کے پہلے ہی روز ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت یہ طے کیا گیا تھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن یا عارضی ویزا پر آئے وزٹرز کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی شہریت کی دستاویزات جاری نہیں کی جائیں گی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران اپریل میں ڈونلڈ ٹرمپ خود عدالت میں موجود تھے اور وہ امریکی تاریخ کے پہلے ایسے برسرِاقتدار صدر بنے جنہوں نے سپریم کورٹ کی زبانی کارروائی میں ذاتی طور پر شرکت کی۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اگر سپریم کورٹ ٹرمپ کے اس حکم نامے کو برقرار رکھتی تو امریکہ میں ہر ماہ غیر قانونی تارکینِ وطن یا وزٹرز کے ہاں پیدا ہونے والے دسیوں ہزار معصوم بچے امریکی شہریت کے حق سے محروم ہو جاتے۔ سپریم کورٹ کے اس حتمی فیصلے کے بعد اب 1868 سے قائم چودہویں آئینی ترمیم کا یہ اصول برقرار رہے گا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر شخص بلا تفریقِ رنگ و نسل اور خاندانی پسِ منظر، امریکہ کا باقاعدہ شہری ہے۔
متعلقہ عنوانات
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی
19 August 2026
امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد
19 August 2026
گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ
19 August 2026
اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ
19 August 2026
سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
19 August 2026
سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم
19 August 2026
ایران نے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا
19 August 2026
خطے میں کشیدگی: متحدہ عرب امارات نے ایران سے تمام تجارتی، مالی معاملات معطل کر دیئے
19 August 2026